Sunday, May 29, 2022

ایک ہی دن میں بھارت کے 2 گلوکار چل بسے انڈین انڈسٹری کو بڑا دھچکا

[29/05, 8:09 pm] M. Aarash: بھارت کے گلوکار ایڈاوا بشیر ائیو پرفارمنس کے دوران اسٹیج پر گر کر ہلاک ریاست کیرالہ میں ملیالم فلم انڈسٹری کے مقبول ترین معروف گلوکار اسٹیج پر اپنا ایک مقبول گانا گا رہے تھے جب ان کے سینے میں شدید درد اُٹھا اور وہ سینہ پکڑ کر کچھ دیر کے لیے ساکت ہوگئے

[29/05, 8:09 pm] M. Aarash: بھارتی پنجابی گلوکار اور کانگریس لیڈر سدھو موسے والا کو گولی مار کر قتل کردیا گیا۔

موسے والا نے مانسا سے کانگریس کے ٹکٹ پر اسمبلی الیکشن لڑا تھا، انہیں عام آدمی پارٹی کے ڈاکٹر وجے سنگلا نے شکست دی، مانسا ضلع کے ایک گاؤں موسے سے تعلق رکھنے والے، موسے والا نے گزشتہ سال نومبر میں کافی دھوم دھام کے درمیان کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی۔کانگریس نے انہیں مانسا اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ دینے کے بعد مانسا کے موجودہ ایم ایل اے نذر سنگھ مانشاہیہ نے پارٹی سے یہ کہتے ہوئے بغاوت کردی تھی کہ وہ متنازع گلوکار کی امیدواری کی مخالفت کریں گے۔عام آدمی پارٹی کی حکومت نے گزشتہ روز سدھو موسے والا کی سکیورٹی واپس لی تھی جس کے اگلے ہی دن وہ قاتلانہ حملے میں مارے گئے۔

 Indian singer Eduardo Bashir Ayo fell to the stage during a performance. The most popular singer of Malayalam film industry in Kerala was singing a popular song on stage when he got severe chest pain and he grabbed his chest for a while. Became silent for

Indian Punjabi singer and Congress leader Sadhu Musa Wala was shot dead.

Musawala had contested the Assembly elections from Mansa on a Congress ticket. He was defeated by Dr. Vijay Singla of Aam Aadmi Party. Musawala, a villager from Mansa district Incumbent Mansa MLA Nazar Singh Manshahiya had revolted from the party after the Congress gave him a ticket from Mansa Assembly constituency saying that he would oppose the candidature of the controversial singer. The government had withdrawn the security of Sadhu Musa Wala yesterday, the day after he was killed in an assassination attempt.

The death of two Indian singers in a single day is a big blow to the Indian industry

عمران خان نے اپنا لانگ مارچ کیوں کینسل کیا؟ دیکھیں اس ویڈیو میں

 

Imran Khan


Monday, May 23, 2022

حریت کانفرنس کی یاسین ملک کی سزا کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں منگل کو مکمل ہڑتال کی اپیل

یاسین ملک


 حریت کانفرنس کی یاسین ملک کی سزا کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں منگل کو مکمل ہڑتال کی اپیل

کُل جماعتی حریت کانفرنس نے حریت رہنما یاسین ملک کو سزا سنائے جانے کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں منگل کو مکمل ہڑتال کی اپیل کردی۔


حریت کانفرنس کا کہنا ہے کہ یاسین ملک کو جھوٹے مقدمے میں سزا سنائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہیں، بھارتی حکومت کی عدالتی دہشت گردی کا مقصد حریت رہنماؤں کی آذادی کی آواز کو دبانا ہے۔


حریت کانفرنس نے مزید کہا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ

 اور او آئی سی بھارتی جیل میں غیرقانونی طور پر نظربند یاسین ملک کی جان بچائے او ان کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔


بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی عدالت نے یکطرفہ ٹرائل کے بعد 19 مئی کو یاسین ملک کو جھوٹے مقدمے میں مجرم قرار دیا تھا۔


بھارتی عدالت میں یاسین ملک کی سزا سنانے کی سماعت 25 مئی کو ہوگی۔

Sunday, May 22, 2022

Full History of Yasin Malik in Urdu ( Why Indian Government Punished Yasin Malik ? )

Yasin Malik Kashmir

 یاسین ملک

یاسین ملک (پیدائش: 1963ء) جموں و کشمیر کے حریت پسند رہنما اور کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ ہیں۔

یاسین ملک جموں کشمیر میں برسر اقتدار پارٹی نیشنل کانفرنس کے خلاف ایک طلبہ لیڈر کے طور پر سامنے آئے تھے۔ انھوں نے 1987 کے انتخابات میں امیرا کدل سے مسلم یونائٹڈ فرنٹ کے امیدوار محمد یوسف شاہ کی حمایت کی۔ کشمیر کے علیحدگی پسند یہ کہتے ہیں کہ نہ یوسف شاہ کر ہرایا جاتا،نہ وہ پاکستان جا کر سید صلاح الدین بنتے اور نہ ہی ان کے حامی وہاں جا کر عسکری تربیت لیتے اور نہ ہی انڈیا میں مسلح جدوجہد کا دور شروع ہوتا۔ اس میں جے کے ایل ایف کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یاسین ملک نے جے کے ایل ایف میں شمولیت اختیار کی اور ان کا گروپ جسے چار رہنماؤں حامد شیخ، اشفاق وانی، جاوید احمد میر اور یاسین ملک کے نام کے پہلے حروف کو جوڑ کر حاجی کہا گیا وہ شروع میں بہت مقبول رہا لیکن رفتہ رفتہ اس کا زور ختم ہوتا رہا یہاں تک کہ اس جماعت کے دو گروپ بن گئے۔ یاسین ملک کی کئی بار گرفتاریاں ہوئیں اور ہر بار ان میں کوئی نہ کوئی تبدیلی رونما ہوئی۔ جب سنہ 1994 میں جب انہیں حراست میں لیا گیا تو انھوں نے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے تشدد کے بجائے امن کے راستے کی پیروی شروع کردی اور گاندھینبن گئے اور بات چیت کے ذریعے جس میں انڈیا پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی بھی شمولیت ہو کی حمایت کرنے لگے۔نہ 1999 اور پھر سنہ 2002 میں انھیں گرفتار کیا گیا جس دوران تقریبا ایک سال تک وہ جیل میں رہے۔ اس کے بعد انھوں نے دنیا بھر کے رہنماؤں سے ملاقات کرنے اور کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جبکہ ان کی پارٹی نے 2007 میں سفر آزادیکے نام سے لوگوں سے ملنے کا ایک سلسلہ شروع کیا جس میں انڈیا کی حکومت کے مطابق انھوں نے لوگوں میں حکومت کے خلاف تاثرات پیدا کیے۔ یاسین ملک نے 2013 میں پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے ساتھ سٹیج شیئر کیا جس پر انھیں انڈیا میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ حافظ سعید کو انڈیا ممبئی بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ کہتا ہے۔ یاسین ملک کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع ہونے کے بعد ان کی رہائی کے امکانات معدوم ہوتے نظر آرہے ہیں۔ یاسین ملک انڈیا کے ریرانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسند رہنما ہیں وہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین ہیں۔ وہ تین اپریل 1963 کو کشمیر میں پیدا ہوئے۔ اوائل نوجوانی سے ہی وہ کشمیر کو الگ اور آزاد حیثیت دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے مسلح جدوجہد بھی کی اور بعدازاں سیاسی جدوجہد شروع کی جس کی وجہ سے وہ شروع سے ہی گرفتاریوں کا سامنا کرتے آ رہے ہیں۔ 2009 میں انہوں نے پاکستانی آرٹسٹ مشال ملک سے شادی کی جن سے ان کی ملاقات چند سال قبل مشرف دور میں اس وقت ہوئی تھی جب دونوں ملکوں کے تعلقات میں کافی خوشگواری پیدا ہو گئی تھی اور دونوں اطراف سے وفود ایک دوسرے کے ملک کے دورے کر رہے تھے، ان ہی دنوں یاسین ملک پاکستان آئے تھے اور ایک تقریب میں مشال ملک سے ملاقت ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی رضیہ سلطانہ بھی ہے۔ آخری بار یاسین ملک کو 22 فروری 2019 کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور سات مارچ کو انہیں جموں کوٹ بلوال جیل منتقل کیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد ان کو تہاڑ جیل منتقل کیا گیا۔ جہاں سے ان کی صحت بگڑنے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ پانچ اگست کو جب انڈین حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تو اس وقت بھی یاسین ملک جیل میں تھے

سیاسی جماعتیں

آل پاٹیز حریت کانفرنسآل جموں و کشمیر مسلم کانفرنسJammu and Kashmir Democratic Freedom PartyJammu Kashmir Democratic Liberation PartyUnited Kashmir People's National Party 

علیحدگی پسند تنظیمیں

جموں کشمیر لبریشن فرنٹجموں کشمیر لبریشن فرنٹتحریک حریتحزب المجاہدینلشکر طیبہجیش محمدحرکت المجاہدینحرکت المجاہدین

علیحدگی پسند

افضل گوروAmanullah Khan (JKLF)Ashiq Hussain Faktooآسیہ اندرابیایوب ٹھاکرAbdullah Yusuf Azzamبرہان مظفر وانیفاروق احمد ڈارحافظ محمد سعیدہاشم قریشیمقبول بٹمحمد مسعود اظہرمسرت عالممیر واعظ عمر فاروقمحمد عباس انصاریمحمد احسان ڈارسید صلاح الدینشیخ عبد العزیزسید علی گیلانییاسین ملک 

تاریخ

معاہدہ امرتسر (1846ء)مسئلہ کشمیرپاک بھارت جنگ 1947Amarnath land transfer controversy2008 Kashmir unrest2010 Kashmir unrestSopore massacreRamban firing incident2016ء کشمیر احتجاجات

قوم پرستی

کشمیریات

انتخابات

Jammu and Kashmir Legislative Assembly election, 2008Jammu and Kashmir Legislative Assembly election, 2014

بھارت: عدالت نے کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کو قصوروار قرار دے دیا
کشمیر کے معروف علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کو شدت پسندی میں معاونت سے متعلق ایک کیس میں قصوروار قرار دے دیا گیا ہے۔ کشمیر میں انہیں بھارت مخالف مضبوط مزاحمت کی علامت کے طور دیکھا جاتا ہے۔
ھارتی دارالحکومت دہلی میں واقع قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے)  کی ایک خصوصی عدالت نے 19 مئی جمعرات کے روز کشمیر کے معروف علیحدگی پسند رہنما اور  جے کے ایل ایف کے بانی یاسین ملک کو شدت پسندی کی معاونت سے متعلق ایک کیس میں قصوروار قرار دیا۔
 عدالت نے ابھی سزا کا تعین نہیں کیا ہے اور ایجنسی کو ہدایت کی ہے کہ یاسین ملک کی دولت کا بھی تخمینہ پیش کیا جائے تاکہ سزا سناتے وقت جرمانے کی رقم پر بھی غور کیا جا سکے۔ سزا کا تعین 25 مئی کے روز ہونے والی اگلی سماعت کے دوران کیا جائے گا۔
بھارتی حکومت نے دفعہ 370 کے خاتمے سے پہلے ہی دہشت گردی سمیت متعدد الزامات کے تحت یاسین ملک کو گرفتار کر لیا تھا، جو گزشتہ کئی برسوں سے دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ بھارت نے ان پر ملک سے جنگ چھیڑنے، دہشت گردی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سمیت متعدد سخت دفعات کے تحت مقدمات دائر کر رکھے ہیں۔ 
 لیکن گرفتاری کے بعد سے ہی اہل خانہ سمیت کسی کو بھی ان سے اب تک ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، اس لیے کسی کو یہ تک نہیں معلوم ہے کہ ان کے کیس کی آخر پیروی کون کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے ان کی قید اور مقدمے کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا بازار گرم رہا ہے۔
اقبال جرم کا معاملہ کیا ہے؟
چند روز قبل ہی بھارتی میڈیا کی سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ کشمیری علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک نے عدالت کے سامنے ’’اپنے اوپر عائد الزامات کا اعتراف کر لیا ہے۔‘‘ ان کو قصور وار ٹھہرانے کی یہ خبر اقبال جرم والی خبر کے محض چند روز بعد آئی ہے۔
اس حوالے سے ڈی ڈبلیو اردو نے جب بھارت کے زیر انتظام  کشمیر کے ایک سینیئر صحافی سے بات کی تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ’’یاسین ملک نے اقبال جرم نہیں کیا بلکہ بھارتی عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مقدمے کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘‘
نہوں نے بتایا کہ ان کی پاکستانی نژاد اہلیہ مشعل حسین نے سوشل میڈیا پر بھی اس کی وضاحت کی تھی اور ان کا کہنا تھا، ’’یاسین ملک کو بھارتی عدالت سے انصاف کی توقع نہیں ہے اسی لیے انہوں نے عدالت سے کہہ دیا کہ وہ اپنے خلاف الزامات کا دفاع نہیں کرنا چاہتے اور اسی کو اقبال جرم کہا جا رہا تھا۔‘‘
کشمیر بار کونسل کے ایک سینیئر رکن نے بھی ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے خیال میں یاسین ملک کو انصاف کی توقع نہیں تھی اور چونکہ ان سے کسی کو ملنے کی اجازت بھی نہیں تھی اس لیے افسردگی اور مایوسی میں اس طرح کا فیصلہ کیا ہو گا کہ دفاع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
ان کا مزید کہنا، ’’اب بھارتی عدالتوں کے فیصلے کشمیریوں کو انصاف دلانے کے بجائے، حکومت کے موقف کی کھل کر حمایت کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ہم کشمیری عدالتوں میں اب ہر روز اسی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔‘‘
یاسین ملک کا معاملہ برطانوی پارلیمان میں
گزشتہ منگل کے روز ہی برطانوی پارلیمان کے ایوان بالا میں کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق سوالات و جوابات کے دوران علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کے بارے میں خاص طور پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
 اس موقع پر پاکستانی نژاد لبرل ڈیموکریٹ لارڈ قربان حسین نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کے مقدمے کے بارے میں سوال کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ آخر اس حوالے سے برطانوی حکومت کیا کر رہی ہے؟
اس کا جواب دیتے ہوئے لارڈ طارق احمد نے کہا،جہاں تک مسٹر یاسین ملک کے کیس کا مخصوص معاملہ ہے، تو ہم اس کی بہت قریب سے نگرانی کر رہے ہیں۔ ہم نے نوٹ کیا ہے کہ ان پر بھارتی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اس لیے ہم بھارت کے آزاد عدالتی عمل میں براہ راست مداخلت نہیں کر سکتے۔ تاہم اپنی تمام مصروفیات میں، سبھی ممالک پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کسی بھی قیدی کے ساتھ سلوک کے حوالے سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کریں۔‘‘
لارڈ قربان حسین کا کہنا تھا کہ یاسین ملک کے خلاف الزامات جعلی‘‘ ہیں اور کشمیریوں کو اس بات کا شک ہے کہ بھارتی حکومت ان سے کسی بھی طرح چھٹکارا‘‘ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ 
لارڈ حسین کا کہنا تھا،ان کی جان کو حقیقی خطرہ لاحق ہے۔‘‘

Total net worth of Sharif Family and Imran Khan (عمران خان اور شریف فیملی کے کُل اثاثہ جات )

Mian Muhammad Nawaz Sharif


شریف فیملی میں نواز شریف کے کی کُل نیٹ ورتھ 1.6 بیلین ڈالرز ہے 

یہ اتنا پیسہ ہے کہ اگر اس پیسے کو پاکستان کے ایجوکیشن سسٹم میں خرچ کِیا جائے تو پاکستانی بچوں کی قسمت جاگ اُٹھے گی

اور یہ پیسہ صرف ظاہر کیاگیا ہے

____________________________________________________________________

Maryam Nawaz Sharif

مریم نواز کی نیٹ ورتھ 845میلین ڈالز ہے جو کہتی تھی میری امریکہ میں تو کیا پاکستان میںبھی کوئی جائداد نہیں ہے

لیکن اس کے بعد ایک انٹر ویو میں مریم نواز نے خود کہا کہ میرا تقریباََ ایک ارب کا بینک بیلنس ہے

اور جھوٹ تو یہیں سے پکڑا گیا

____________________________________________________________________

Shehbaz Sharif

شہباز شریف کی کُل نیٹ ورتھ 18لاکھ امریکی ڈالرز ظاہر کی گئی ہے

جبکہ ان کے زاتی ملازم(جو کہ ان کی شوگر مل میں کام کرتا ہے)  کے اکائونٹ سے 16بیلین پاکستانی روپے سامنے آتے ہیں 

______________________________________________________________________

Shehbaz Sharif and Hamza Shahbaz

جبکہ شہباز شریف اورحمزہ شہباز پر 40بیلین پاکستانی روپوں کا کیس ہے جسے آج تک کوئی بھی عدالت ان جو ثابت نہیں کر پائی

______________________________________________________________________


عمران خان کی اہلیہ پر الزامات کی بوچھاڑ کی گئی اسی وجہ وہ پاکستان میں نہیں رہی جب جمائما سمتھ نے عمران خان کو پاکستان چھوڑنے کو کہا تو عمران خان نے صاف انکار کر دیا

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں اپنے وطن پاکستان کو بھی نہیں چھوڑوں گا

یہ معاملہ بہت دیر تک چلتا رہا لیکن عمران خان نے پاکستان چھوڑنے سے انکار کر دیا

جمائما سمتھ نے عمران خان سے طلاق لینے کا مطالبہ کر دیا

عمران خان کے طلاق کے وقت عمران خان کو جمائما سمتھ کی جائداد کا حصہ لینے کو کہا گیا جس سے عمران خان نے صاف صاف انکار دیا

اُس وقت عمران خان کو 3 بیلین ڈالرز کی آفر کی گئی کہ لے لو

( ناظرین یہ پیسہ کسی بھی شرط سے پاک تھا جو عمران خان کو دیا جا رہا تھا جمائما کے چھوڑنے پر لیکن عمران خان نے انکار کر دیا)

(اُس وقت شریف فیملی لے پاس ایک بیلین ڈالرز بھی نہیں تھے)

اگر عمران خان وہ 3بیلین ڈالرز لے کر پاکستان میں یا کسی بھی ملک میں اپنا کاروبار شروع کرتا تو آج وہ دنیا کا امیر ترین شخص ہوتا

اس کے سامنے نہ ایلون مسک ہوتا اور نہ ہی بِل گیٹس

لیکن اس مرد مجاہد نے صرف پاکستان اور اپنے لوگوں کا سوچا اور سب کچھ ٹھکرا دیا،

پڑھنے والوں کو بتاتا چلوں کہ اس فیملی کے پاس پاکستان سے لُوٹا ہوا اتنا پیسہ کہ اگر پاکستان واپس لایا جائے تو ہمارے ملک سے لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے

نئے ڈیمز بنائے جا سکتے ہیں 

اور یہ صرف شریف فیملی کا ہے

Asif Ali Zardari

آصف علی زرداری ابھی باقی ہے

 

موبائل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

ایک موبائل فون ( سیل فون ، یا  ہینڈ فون )  جو کبھی کبھی صرف موبائل ، سیل یا محض فون پر اکتفاء کیا جاتا ہے،  ایک پورٹیبل ٹیلیفون ہے جو ریڈیو فریکوینسی لنک پر کال کرتا ہے اور کال وصول کرتا ہے۔ ٹیلیفون سروس ایریا۔ ریڈیو فریکوینسی لنک موبائل فون آپریٹر کے سوئچنگ سسٹم سے رابطہ قائم کرتا ہے، جو پبلک سوئچڈ ٹیلیفون نیٹ ورک (PSTN) تک رسائی فراہم کرتا ہے۔  جدید موبائل ٹیلیفون خدمات سیلولر نیٹ ورک فن تعمیر کا استعمال کرتی ہیں  اور اسی وجہ سے ٹیلیفون میں موبائل ٹیلیفون کو سیلولر ٹیلیفون یا سیل فون کہا جاتا ہے۔ ٹیلی فون  کے علاوہ ،  ڈیجیٹل موبائل فون (2G ) متعدد دوسری خدمات پیش کرتے ہیں،  جیسے ٹیکسٹ میسجنگ،  ایس ، ایم ، ایس ، ای میل ، انٹرنیٹ تک رسائی ، مختصر فاصلے پر وائرلیس مواصلات (اورکت ، بلوٹوتھ)،  بزنس ایپلی کیشنز ،  ویڈیو گیمز اور ڈیجیٹل فوٹو گرافی۔ سادہ طور پر صرف یہ خدمات پیش کرنے والے موبائل فون کو فیچر فونز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ موبائل فون جو اعلی درجے کی کمپیوٹنگ کی صلاحیتوں کو پیش کرتے ہیں انہیں اسمارٹ فونز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ میٹل آکسائڈ سیمیکمڈکٹر (MOS) بڑے پیمانے پر انضمام (LSI) ٹکنالوجی،  انفارمیشن تھیوری اور سیلولر نیٹ ورکنگ کی ترقی کے نتیجے میں سستی موبائیل مواصلات کی ترقی کا سبب بنی۔  پہلے ہینڈ ہیلڈ موبائل فون کا مظاہرہ جان ایف مچل  اور موٹرولا کے مارٹن کوپر نے 1973 میں کیا،  جس کا وزن سی ہینڈسیٹ تھا۔ 2 کلو گرام (4.4 پونڈ)۔ 1979 میں،  نپون ٹیلی گراف اور ٹیلیفون (این ٹی ٹی) نے جاپان میں دنیا کا پہلا سیلولر نیٹ ورک لانچ کیا۔ 1983 میں  ڈائناٹیک 8000 ایکس تجارتی طور پر دستیاب پہلا ہینڈ ہیلڈ موبائیل فون تھا۔  1983ء  سے 2014ء  تک،  دنیا بھر میں موبائل فون کی تعداد 7  بلین سے زیادہ ہوگئی۔  زمین پر ہر فرد کے لئے ایک فراہم کرنے کے لئے کافی ہے۔  2016 ء کی پہلی سہ ماہی میں   اسمارٹ فون ،  ایپل اور ہواووی سب سے اوپر سمارٹ فون ڈویلپر تھے۔ اسمارٹ فون کی فروخت موبائل فون کی کل فروخت میں 78 فیصد کی نمائندگی کرتی ہے۔   فیچر فونز (سلیگ: "ڈمبون فون") کے لئے 2016 ء تک  سب سے زیادہ سیمسنگ   نوکیا  اور  الکاٹیل تھے[1]۔

ریڈیو انجینئرنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایک ہینڈ ہیلڈ موبائل ریڈیو ٹیلیفون سروس کا تصور کیا گیا تھا۔ 1917 میں ، فینیش موجد ایریک ٹائیگرسٹیڈ نے ایک "جیبی سائز کے فولڈنگ ٹیلیفون کے لئے ایک انتہائی پتلی کاربن مائکروفون" کا پیٹنٹ دائر کیا۔ سیلولر فون کے ابتدائی پیش روؤں میں جہازوں اور ٹرینوں سے ملنے والے ریڈیو مواصلات شامل تھے۔ واقعی طور پر پورٹیبل ٹیلیفون ڈیوائسز بنانے کی دوڑ دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہوئی ،  بہت سارے ممالک میں پیشرفت ہو رہی ہے۔ موبائیل ٹیلی فونی میں پیشرفت کا سلسلہ لگاتار "نسلوں" میں ڈھونڈا گیا ہے ،  ابتدائی نسل  خدمات سے شروع ہوا ہے ، جیسے بیل سسٹم کی موبائیل ٹیلیفون سروس اور اس کے جانشین ، بہتر موبائل ٹیلیفون سروس۔ یہ سسٹم سیلولر نہیں تھے ، بیک وقت کچھ کالوں کو سپورٹ کرتے تھے ، اور بہت مہنگے تھے۔ موٹرولا DynaTAC 8000X۔ 1984 میں ، یہ پہلا تجارتی طور پر دستیاب ہینڈ ہیلڈ سیلولر موبائل فون بن گیا۔ دھاتی آکسائڈ سیمیکمڈکٹر (MOS) بڑے پیمانے پر انضمام (LSI) ٹیکنالوجی ، انفارمیشن تھیوری اور سیلولر نیٹ ورکنگ کی ترقی کے نتیجے میں سستی موبائل مواصلات ، اور کار فون جیسے آلات کی ترقی ہوئی۔ پہلے ہینڈ ہیلڈ موبائل فون کا مظاہرہ جان ایف مچل اور موٹرولا کے مارٹن کوپر نے 1973 میں کیا تھا جس میں 2 کلو گرام (4.4 پونڈ) وزنی ہینڈسیٹ استعمال کیا گیا تھا۔   پہلا تجارتی خودکار سیلولر نیٹ ورک  (1G ) ینالاگ جاپان میں 1979 میں نپون ٹیلی گراف اور ٹیلیفون کے ذریعے لانچ کیا گیا تھا۔  اس کے بعد 1981 میں ڈنمارک، فن لینڈ،  ناروے اور سویڈن میں نورڈک موبائیل ٹیلیفون (NMT) نظام کے بیک وقت لانچ ہوئے۔  اس کے بعد کئی دیگر ممالک نے  1980 کی دہائی کے وسط تک اس کی پیروی کی۔ یہ پہلی نسل (1G ) سسٹم کہیں زیادہ بیک وقت کالوں کی حمایت کرسکتے ہیں لیکن پھر بھی ینالاگ سیلولر ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ 1983 میں ، DynaTAC 8000x  پہلا تجارتی طور پر دستیاب ہینڈ ہیلڈ موبائیل فون تھا۔ ڈیجیٹل سیلولر نیٹ ورکس  1990  کی دہائی میں شائع ہوئے،  جس میں MOSFET پر مبنی RF پاور ایمپلیفائرز (پاور MOSFET اور LDMOS) اور RF سرکٹس (RF CMOS) نے وسیع پیمانے  پر اپنانے سے ڈیجیٹل سگنل کو متعارف کرایا۔  وائرلیس مواصلات میں پروسیسنگ۔ 1991 میں،  دوسری نسل (2 (G ڈیجیٹل سیلولر ٹکنالوجی کو فن لینڈ میں جی ڈی  ایس معیاری  پر ریڈیولنجا نے لانچ کیا۔  اس سے اس شعبے میں مسابقت پیدا ہوگئی کیونکہ نئے آپریٹرز نے موجودہ) 1 (G نیٹ ورک آپریٹرز کو چیلنج کیا۔  جی  ایس  ایم  معیار ایک یورپی اقدام ہے جس کا اظہار سی ای  پی  ٹی "کنفرینس یوروپینی ڈیس پوٹس ایٹ ٹیلی مواصلات"  یورپی پوسٹل اور ٹیلی مواصلات کانفرنس  میں کیا گیا ہے۔ فرینکو جرمن آر اینڈ ڈی تعاون نے تکنیکی فزیبلٹی کا مظاہرہ کیا،  اور 1987 میں 13 یوروپی ممالک کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے جو 1991 تک تجارتی خدمت شروع کرنے پر راضی ہوگئے تھے۔  جی  ایس  ایم  (2 جی) معیار کے پہلے ورژن میں 6000 صفحات تھے۔ آئی  ای  ای  آر ایس  ای نے تھامس ہاگ اور فلپ ڈوپوس کو 2018 کے جیمز کلرک میکسویل میڈل میں پہلا ڈیجیٹل موبائیل ٹیلیفون کے معیار میں ان کی شراکت کے لئے نوازا۔  2018 میں  جی  ایس  ایم  220 سے زیادہ ممالک میں 5  ارب سے زیادہ افراد استعمال کرتے تھے۔ GSM (2G) (3G)   (4G) اور) 5 (G میں تیار ہوا ہے[2]۔

 ذاتی ہینڈی فون سسٹم موبائلس اور موڈیم ، 1997– 2003  آئن بیٹری،  جدید موبائل فون کے لئے ایک ناگزیر توا نائی کا ذریعہ ہے   1991میں سونی  اور آشیکسی نے کمرشل بنایا تھا۔ 2001 میں جاپان میں تیسری نسل (3G ) کا آغاز NTT ڈوکومو نے WCDMA معیار پر کیا تھا۔   اس کے بعد تیز رفتار پیکٹ تک رسائی   (HSPA)  کنبہ پر مبنی 3.5G 3G + یا ٹربو  3G میں اضافہ ہوا   جس سے UMTS نیٹ ورک کو اعداد و شمار کی منتقلی کی تیز رفتار اور صلاحیت حاصل ہوگی۔ 2009 تک  یہ واضح ہوچکا تھا کہ  کسی وقت  تھری جی  نیٹ ورکس  اسٹینڈنگ میڈیا  جیسے  بینڈوڈتھ گنجائش  والے  ایپلی کیشنز کی نشوونما سے مغلوب ہوجائیں گے۔ اس کے نتیجے میں   اس صنعت نے موجودہ تھری جی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں دس گنا تک رفتار میں بہتری لانے کے وعدے کے ساتھ  ڈیٹا سے بہتر چوتھی نسل کی ٹیکنالوجی کی تلاش شروع کردی۔  پہلی دو تجارتی طور پر دستیاب ٹیکنالوجی جس کا بل 4G تھا وہ وائی میکس معیاری تھا ، جو شمالی  امریکہ میں سپرنٹ کے ذریعہ پیش کیا گیا تھا ،  اور ایل ٹی  ای  معیاری  جو پہلی بار اسکیلینیویا میں پیش کیا گیا تھا ٹیلیا سونرا کے ذریعہ۔ 5 جی ایک ٹکنالوجی اور اصطلاح ہے جو ریسرچ پیپرز اور پروجیکٹس میں استعمال ہوتی ہے جس میں موبائل ٹیلی مواصلات کے معیاروں میں اگلے بڑے مرحلے کو 4 جی / آئی  ایم  ٹی  ایڈوانسڈ معیاروں سے بالاتر کیا جاتا ہے۔ 5 جی اصطلاح باضابطہ طور پر کسی بھی تصریح یا سرکاری دستاویز میں استعمال نہیں کی گئی ہے جو ابھی تک ٹیلی مواصلات کمپنیوں یا معیاری تنظیموں جیسے 3 جی  پی  پی  وائی میکس فورم یا آئی  ٹی  یو-آر  کے ذریعہ عام کی گئی ہے۔  4 جی  سے آگے کے نئے معیارات کو اس وقت معیاری اداروں کے ذریعہ تیار کیا جارہا ہے ، لیکن اس وقت انہیں 4 جی چھتری کے تحت دیکھا جاتا ہے ، کسی نئی موبائل نسل کے لئے نہیں[3]۔

اقسام

ماخذ کا ڈیٹا دیکھیں یا اس میں ترمیم کریں۔

100 افراد پر موبائل سبسکرپشنز  ہر 100 باشندے متحرک موبائل براڈ بینڈ کی خریداری اسمارٹ فون مرکزی مضمون  اسمارٹ فون اسمارٹ فونز میں متعدد امتیازی خصوصیات موجود ہیں۔ بین الاقوامی ٹیلی مواصلات یونین انٹرنیٹ کنیکشن والے افراد کی پیمائش کرتی ہے ، جسے وہ ایکٹو موبائل براڈ بینڈ خریداری (جس میں گولیاں وغیرہ شامل ہیں) کہتے ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں اسمارٹ فونز نے اب پہلے موبائل سسٹم کے استعمال کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ تاہم ، ترقی پذیر دنیا میں ،  وہ موبائل ٹیلی فون  کا تقریبا  50 50٪  حصہ رکھتے ہیں۔ نمایاں فون مرکزی مضمون  نمایاں فون فیچر فون ایک اصطلاح ہے جو عام طور پر موبائل فون کی وضاحت کے لئے ریٹرنیم کے طور پر استعمال ہوتی ہے جو ایک جدید اسمارٹ فون کے برعکس صلاحیتوں میں محدود ہے۔  فیچر فون عام طور پر بنیادی ملٹی میڈیا اور انٹرنیٹ کی صلاحیتوں کے علاوہ  وائس کالنگ اور ٹیکسٹ میسجنگ فعالیت ،  اور صارف کی وائرلیس سروس فراہم کنندہ کی پیش کردہ  دیگر خدمات مہیا کرتے ہیں۔  ایک فیچر فون میں بنیادی موبائل فون کے اوپر اور اس سے زیادہ اضافی کام ہوتے ہیں جو صرف وائس کالنگ اور ٹیکسٹ میسجنگ کے قابل ہے۔   فیچر فونز  اور بنیادی موبائل فونز ملکیتی ، کسٹم ڈیزائنڈ سافٹ ویئر اور صارف انٹرفیس کا استعمال کرتے ہیں۔  اس کے برعکس   اسمارٹ فونز عام طور پر ایک موبائل آپریٹنگ سسٹم کا استعمال کرتے ہیں جو اکثر ڈیوائس میں عام خصوصیات کا اشتراک کرتے ہیں[4]۔